Abstract
فارس عودة (1985–2000)، ایک تیرہ سالہ بچہ، دوسری انتفاضہ (2000–2005) میں فلسطینی مزاحمت کا ایک درخشاں کردار بن گیا۔ اس کا عزم، اس کی جرأت، اور اس کی قربانی فلسطینی آزادی کی تحریک کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ مطالعہ اس کی کہانی کو نفسیاتی، سماجی، اور استراتیجیاتی تناظر میں پیش کرتا ہے، جو ظلم کے مقابلے میں بچوں کی لچک اور عزم کی داستان کو اجاگر کرتا ہے۔