Abstract
مشتاق احمد خان کا جماعت اسلامی سے استعفیٰ پاکستان کی سیاسی اور فکری تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔ سابق سینیٹر (مارچ 2018 تا مارچ 2024، خیبر پختونخوا سے جماعت اسلامی کی نمائندگی) نے 19 ستمبر 2025 کو استعفیٰ جمع کروایا، جب وہ گلوبل سومود فلوٹیلا (غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی انسانی امدادی مہم، اکتوبر 2025 میں بحیرہ روم میں شروع) پر سوار تھے۔ یہ استعفیٰ 9 اکتوبر 2025 کو عوامی طور پر اعلان کیا گیا، جب کہ جماعت نے ابھی تک باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ مشتاق، جو نظریاتی وابستگی اور جدوجہد کی علامت ہیں، نے یہ فیصلہ آزادانہ جدوجہد کے لیے کیا، جو پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں تنظیمی ڈسپلن اور ذاتی ضمیر کے درمیان تنازع کی مثال ہے۔