انسانوں کو خون، رنگ ، نسل، علاقہ، زبان اور فکرو نظر کی بنیاد پر تقسیم ؛ جہالت ، غلامی اور اندھیروں کی تجارت کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے
Authors: Taha Nazir
Keywords:Racial discrimination,Caste-based inequality,Religious extremism
Abstract

منقسم دنیا میں تقسیم کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور عالمی معیشت کے باہمی انحصار کے باوجود، نسل پرستی، ذات پات، قوم پرستی، طبقاتی امتیاز اور مذہبی تعصبات کا منظم استحصال آج بھی طاقت کے تسلسل کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ رجحان محض ماضی کی کہانی نہیں بلکہ ایک فعال سیاسی و معاشی حربہ ہے، جسے مختلف رہنما، ادارے اور مذہبی طبقات شعوری طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ہنگری کے وزیر اعظم وِکٹر اوربان، نائیجیریا کے عالم شیخ احمد گومی، بھارت کی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، اور کارپوریٹ ادارے جیسے ہواوے اور وال مارٹ اس حکمتِ عملی کے نمایاں کردار ہیں۔ اکتوبر 2025 کی گلوبل پیس انڈیکس اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹوں کے مطابق، 2024 کے بعد سے فرقہ وارانہ و نسلی تنازعات میں پندرہ فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ یہی تقسیماتی سیاست ہے۔ یہ استحصال خوف، قلت، اور نفرت کی بیانیہ سازی پر قائم ہے، جو مساوات پر مبنی اصلاحات سے توجہ ہٹا کر ظلم کے تسلسل کو ممکن بناتا ہے۔

Article Type:Short report
Received: 2025-12-24
Accepted: 2025-12-28
First Published:2025-12-30
First Page & Last Page: 1 - 5
DOI: -
Collection Year:2025