Abstract
جماعتِ اسلامی (جی آئی) اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مل کر کام کرنے کی سیاسی معنویت اس لیے قابلِ توجہ ہے کہ ایک مضبوط شہری اتحاد — جو منظم نظریاتی ڈھانچے (جیسے جماعتِ اسلامی) کو عوامی مقبولیت (جیسا کہ پی ٹی آئی کی 2018 کی انتخابی کامیابی) کے ساتھ جوڑ دے — پارلیمانی نگرانی، شفافیت اور سول کنٹرول کے مطالبات طے کر سکتا ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے قومی سطح پر تقریباً 31.82 فیصد عام رائے حاصل کر کے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، جو اس بات کی علامت تھی کہ عوامی مقبولیت کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ Wikipedia اسی طرح جماعتِ اسلامی نے کراچی کے مقامی انتخابات (جنوری 2023) میں قابلِ ذکر نشستیں لے کر شہری تنظیمی قوت دکھائی — دونوں عناصر کا اتحاد ایک مضبوط شہری بلاک تشکیل دے سکتا ہے جو قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر پارلیمانی احتساب کا مطالبہ کرے۔