Abstract
ستمبر انیتس تا اکتوبر دوہزار چوبیس اور پچیس کے دوران آزاد جموں و کشمیر (اے جی کے) میں ہونے والا بڑے پیمانے پر احتجاج پاکستان کی حالیہ داخلی سیاسی تاریخ کا ایک سنگین واقعہ تھا۔ یہ تحریک جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) کی قیادت میں ابھری، جس نے مظفرآباد، راولا کوٹ، کوٹلی، اور میرپور میں ہزاروں عوام کو سڑکوں پر نکالا۔ احتجاج کا مرکز مہنگائی، بڑھتی بجلی کی قیمتیں، آٹے کی قلت، اور سیاسی بدعنوانی تھا۔